ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک کے چن پٹن میں بھی شاہین باغ ؛ ہزاروں کی تعداد میں عورتوں اور مردوں نےنکالی ریلی ؛ شہریت قانون کی سخت مخالفت

کرناٹک کے چن پٹن میں بھی شاہین باغ ؛ ہزاروں کی تعداد میں عورتوں اور مردوں نےنکالی ریلی ؛ شہریت قانون کی سخت مخالفت

Sun, 09 Feb 2020 11:15:24    S.O. News Service

چن پٹن (سید یحییٰ / ایس او نیوز)  شہریت قانون کی مخالفت سمیت این آر سی اور این پی آر کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے شاہین باغ کی عورتوں نے سارے ہندوستان میں انقلاب پیدا کردیا ہے،اب صرف دہلی میں ہی شاہین باغ نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے کئی مقامات پر شاہین باغ بن چکے ہیں۔ اسی طرح کا ایک شاہین باغ اب کرناٹک کے چن پٹن میں بھی  قائم ہوگیا  جہاں  ہزاروں خواتین اور مرد حضرات نے مجوزہ سیاہ قوانین کے خلاف احتجاجی ریلی نکالتے ہوئے  سخت مظاہرہ کیا۔

احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے  بلاری کے رکن پارلیمان سید ناصر حُسین نے کہا کہ  مجھے آج چن پٹن کے عورتوں بچوں اور مردوں کی ریلی میں ہزاروں افراد کی موجودگی دیکھ کر بہت زیادہ خوشی ہو ئی ہے،مجھے چن پٹن کے شاہین باغ اسٹیج پر تقریر کرتے ہوئے یہ احساس ہو رہا ہے کہ میں دہلی کے شاہین باغ میں کھڑا ہوں۔انہوں نے کہا  کہ CAAاور NRCکے نام سے پورے ملک  میں ہلچل مچ گئی ہے   عوام کا دھیان ان کی کالی کرتوتوں سے ہٹانے کے لئے سارے ملک کو پریشان حال کر دیا ہے، آج دیش کا صرف مسلمان پریشان نہیں ہے بلکہ آج دیش کے ہر ذات کے لوگ احتجاج کر تے ہوئے سڑکوں پر اتر گئے ہیں،نریندر مودی اور امیت شاہ عوام کو بہکانے کے لئے کہہ رہے ہیں کہ آپوزیشن اور بی جے پی کی لڑائی ہے اور اس کالے قانون کی مخالفت صرف کانگریس کر رہی ہے، ایسانہیں ہے بلکہ ہندوستان کے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا فرد اس کالے قانون کی مخالفت کر رہا ہے، کیونکہ یہ کالا قانون پورے عوام  کو لائنوں میں کھڑا کرے گا اور تمام ہندوستانیوں کو پریشان کردے گا، اگر کسی ہندو کے گھر میں باپ اور ایک بیٹے کا نام این آر سی میں پاس ہو گیا اور دوسرے بیٹے کا نام این آر سی کی فہرست میں آگیا تو کیا گھر کے تمام افراد پریشان نہیں ہونگے، بی جے پی پارٹی  نے ملک  کے تمام طبقات کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔

اجلاس میں سبکدوش کے اے ایس آفیسر ضمیر پاشاہ نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ملک میں کئی مذہب کے افراد رہتے ہیں اور یہ جنگ مذہب کی بنیاد پر نہیں ہے، اس کالے قانون کے خلاف جس جنگ کو لڑا جا رہا ہے اس میں ہر مذہب کے افراد شریک ہیں، اس کالے قانون کے تعلق سے تمام ہندوستانی جو ہندوستان کا قانون بچانا چاہتے ہیں سڑکوں پر اُترے ہوئے ہیں،ہندوستان کے قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کوئی کرے یہ کسی ہندوستانی کو پسند نہیں ہوگا، جو دیش کے دشمن ہیں انہیں ایسا لگ رہا ہے کہ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے دیش کے غدّار ہیں، ہندوستان کو آزادی دلانے کے لئے ہمارے بزرگوں نے کئی قربانیاں دیکر اس دیش کو آزاد کرایا تھا اور ہم آزاد ہندوستان کے قانون کو برباد کرنے نہیں دیں گے۔اجلاس میں سید نظام فوجدار،مولانا منیب الرحمن، ذبیع اللہ خان غوری وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔

دوپہر 2بجے سے یہاں کے انجمنِ مہدوے میدان میں عورتیں ریلی نکالنے کے لئے جمع ہونے لگیں، اسی وقت  گروبھون میدان جو انجمنِ مہدویہ میدان کے بغل میں ہے مرد جمع ہونے لگے، انجمن مہدویہ میدان میں کچاکچ  عورتیں بھر گئیں جس کو دیکھ کر عوام کو ایسا محسوسن ہونے لگا جیسے دہلی کا شاہین باغ یہاں نمودار ہوا ہے، کچھ ہی دیر میں  مرد حضرات بھی ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوگئے، پہلے عورتوں کی ریلی نکلی جو CAA, NRC, NPRکے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے نظامی چوک، شاہی سرکل، مہدویہ سرکل، ڈوم لائٹ سرکل ہوتے ہوئے پیٹّا اسکول میدان میں پہنچی جہاں  شاہین باغ نما  اسٹیج  تیار تھا ، ان کے پیچھے، علمائے کرام تھے اور ان کے پیچھے مردوں کی ریلی بھی شاہین باغ اسٹیج کو پہنچی۔

احتجاج کے مد نطر دوپہر سے ہی تمام دوکانیں و کاروباری ادارے  بند تھے اور راستوں کی دونوں جانب صرف عوام ہی عوام نظر آرہے تھے، جگہ جگہ لوگ ریلی کا استقبال کرنے  جمع تھے اور ریلی کے لوگوں کو پینے کے پانی، دہین وغیرہ تقسیم کرتے نظر آرہے تھے ۔  ریلی اور اجلاس میں شریک احتجاجیوں  میں  کالے قانون کے خلاف غصّہ نظر آ رہا تھا۔  سابق اراکین بلدیہ میں لیاقت علی خان، ذکی آحمد خان، حامد منّور، باواصاوغیرہ کے ساتھ ممتاز آحمد خوندمیری، نویاشری، شرت چندرا، وسیم،فرید ودیگر کافی ذمہ داران احتجاج میں شریک تھے ۔


Share: